Fariz Namaz K Bad Dua Karna Sunnat Se Sabat Hai
فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا سنت سے ثابت ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا نبی کریم مالی شما پیام سے ثابت نہیں ہے
کیا واقعی ایسا ہے؟ صحیح راہنمائی فرما دیں۔ سائل : محمد حسین بخش، ڈیرہ غازی خان
الجواب بعون الملک الوهاب:
صورت مسئولہ کے مطابق فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا نبی کریم صلی الہام کے فعل مبارک سے ثابت ہے۔ سید نا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ملی پیام سے پوچھا گیا: أَتى الدُّعَاءِ أَسْمَعُ قَالَ جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ المكتوبات کس وقت کی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے؟ جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری حصہ کی دعا اور فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔ (سنن ترمذی، ابواب الدعوات، رقم الحدیث 3499 ، بیروت ) اسی قسم کا ایک سوال جب سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔ جائز و درست تو مطلقا ہے مگر فصل طویل مکروہ تنزیہی و خلاف اولی ہے اور فصل قلیل میں اصلاً حرج نہیں ، در مختار فصل صفۃ الصلاۃ میں ہے : يكره تأخير السنة الابقدر اللهم انت السلام الخ وقال الحلواني لا بأس بالفصل بالا و راد و اختاره الكمال قال الحلبي ان اريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت وفى حفظی حمله على القليلة – سنتوں کا مؤخر کرنا مکروہ ہے مگر اللهم انت اسلام الخ کی مقدار حلوانی نے کہا اور اد اور دعاؤں کی وجہ سے فصل ( وقفہ ) میں کوئی حرج نہیں کمال نے اسے مختار قرار دیا ہے۔ حلبی نے کہا کہ اگر کراہت سے مراد تنزیہی ہو تو اختلاف ہی ختم ہو جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ حلوانی نے اسے اور اد قلیلہ پر محمول کیا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 234، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ) آگے لکھتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے : لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيئ قدير اللهم لا مانع لما اعطیت ولا معطى لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد – اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے، ملک اس کا حمد اس کی ، اور وہ ہر شے پر قادر ہے، اے اللہ ! تیری عطا میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا ، جو تو نہ دے وہ کوئی اور دے نہیں سکتا اور کسی کو اسکا بخت و دولت تیرے قبر و عذاب سے بچا نہیں سکتا ۔